سوال

کیا ایسی جگہ جہاں مستقل نماز نہ اذان ہوتی ہو ایسی خانقاہ یا بے آباد مسجد میں اعتکاف مسنونہ کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی مسجد میں اعتکاف مسنونہ نہی ہو گا۔

لما فی الہدایہ:(1/247،المیزان)
لا اعتکاف الا فی مسجد جماعۃ وعن ابی حنیفۃ انہ لا یصح الا فی مسجد یصلی فیہ الصلواۃ الخمس لانہ عبادۃ انتظار الصلٰوۃ فیختص بمکان یؤدی فیہ
وفی الہندیہ:(1/211،رشیدیہ)
ومنہا مسجد الجماعۃ فیصح فی کل مسجد لہ اذان واقامۃ ہو الصحیح کذا فی الخلاصۃ
وکذا فی فتح الباری شرح صحیح البخاری:(4/342،قدیمی)
وکذافی الجوہرہ النیرہ:(1/352،قدیمی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/280،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(3/1750،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/376،المنار)
وکذا فی البحرالرائق:(2/526،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/4/2/2021
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:39

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔