سوال

ہمارا ڈیرہ (زرعی زمین) والا گاؤں کی آبادی سے تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،وہاں پر اذان کی آواز باآسانی آجاتی ہے۔جبکہ ہم کچھ لوگ مل کر ڈیرے پر ہی جماعت کروا لیتے ہیں،کیا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی اذان دیں یا مسجد والی اذان ہی کافی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دوبارہ اذان کہنا افضل ہے ضروری نہیں، اگر نہ کہی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

لما فی الھندیہ:(1/54،رشیدیہ)
ولا یکرہ ترکہا لمن یصلی فی المصر اذا وجد فی المحلۃ ولا فرق بین الواحد والجماعۃ والافضل ان یصلی بالاذان والاقامۃ
وفی المبسوط:(2/133،بیروت)
قال(فان صلی رجل فی بیتہ فاکتفی باذان الناس واقامتہم اجزاہ)لما روی ان ابن مسعود رضی اللہ عنہ صلی بعلقمۃ والاسود فی بیت فقیل لہ الاتؤذن فقال اذان الحی یکفینا
وکذا فی النہرالفائق:(1/171،قدیمی)
وکذا فی التا تار خانیہ:(2/151،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/295،سعید)
وکذا فی المختصر الفقہ الحنفی:(1/94،البشریٰ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/444،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2020/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:40

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔