سوال

گڈز ٹرانسپورٹ والوں کے پاس ایک آدمی آکر کہتا ہے مجھے ملتان سے اسلام آباد مال بھیجنے کے لیے گاڑی کرایہ پر چاہیے،گڈز والے اسے کہتے ہیں آپ کو 50000 روپے میں گاڑی ملے گی، پھر گڈ ز والے گاڑی والے سے 48000 روپے میں بات طےکر کے مال بھیجنے والے کو 50000 روپے میں گاڑی دیتے ہیں دو ہزار روپے اپنا کمیشن رکھتے ہیں،تو کیا گڈز والوں کا یہ دو ہزار رکھنا جائز ہے ؟ جبکہ گاڑی کرایہ پر لینے والے کو 2000 روپے رکھنے کا علم نہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

گڈز والوں کا نفع رکھنا شرعا جائز ہے،جبکہ معروف اجرت سے زائد نہ ہو۔

لما فی الشامیہ:(6/48،سعید)
اجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک ومالا یقدر فیہ الوقت ولا العمل تجوز لما کان للناس بہ حاجۃ ویطیب الاجر الماخوذ او قدر اجرالمثل
وفی الشامیہ:(6/63،سعید)
قال فی التاترخانیۃ ،وفی الدلال والسمسا ر یجب اجرالمثل، وما تواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذاک حرام علیہم وفی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃالسمسارفقال ارجو انہ لاباس بہ وان کان فی الاصل فاسدالکثرۃ التعامل وکثیر منہا غیر جائز، فجوز ولحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام
وفی التاتارخانیہ:(15/136،فاروقیہ)
واذا اخذالسمسار اجرمثلہ، ہل یطیب لہ ذالک؟ قالالشیخ المعروف بنخواہر زادہ یطیب لہ ذالک
وکذا فی تکملہ فتح الملہم :(1/336،دارالعلوم)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3326،رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(4/411،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(4/560،)
وفی التاتارخانیہ:(15/136،فاروقیہ)
وکذا فی العالمکیریہ:(4/450،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:106

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔