سوال

دیت یا صلح میں لی ہوئی رقم ورثاء میں میراث کے ضابطے سے تقسیم ہوگی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دیت کی رقم بھی اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگی۔

لما فی المحیط البرھانی:(23/281،دار احیاء)
والدیة تورث بلاخلاف
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التأویل للأمام النسفی:(2/650،651،دارالکتب)
ودیة مسلمة الی اھلہ) مؤداة الی ورثتہ یقتسمونھا کما یقتسمون المیراث لا فرق بینھما وبین سائر الترکة فی کل شئ فیقضیٰ منہا الدین وتنفذ الوصیة
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7726، رشیدیة)
وکذافی الشامیة:(6/759،سعید)
وکذا فی تفسیر البغوی:(1/462 ،دار المعرفة)
وکذا فی نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور:(2/297،دارالباز)
وکذا فی البحر الرائق:(9/364،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(20/214،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/19،علومِ اسلامیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/365، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:73

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔