سوال

شوہراگر بیوی کو رخصتی سے پہلےطلاق دےدیتا ہےتو مہر اور عدت کا کیا حکم ہے(2)اور رخصتی سے پہلےکتنی طلاقوں کے بعد عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

رخصتی سے پہلے طلاق دینے سے آدھا مہر دینا ہوگا ،اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو متعہ (تین کپڑے) دینے ہوں گے(2)رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلےطلاق ہوجانے پر عورت دوسرا نکاح فورا کر سکتی ہے اس پر عدت نہیں ہوتی۔

وکذافی التنویر مع الدر:(3/104،سعید)
ویجب نصفہ بطلاق قبل وطیء أ و خلوة
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/155،دار احیاء)
“وللمطلقة قبل الدخول بها نصف المفروض لقوله تعالى: {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ}
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیة)
وشرط وجوبها الدخول أو ما يجري مجرى الدخول، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح دون الفاسد، فلا يجب بدون الدخول، والخلوة الصحيحة لقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها
وکذافی الھندیة:(1/526،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(6/30،63 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(4/220،،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(5/526،،فاروقیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/504،سعید)
وکذا فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/377،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1442/2020/12/22
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:83

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔