الجواب باسم ملھم الصواب
مجبوری میں فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے لیکن مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔
جیل انتظامیہ کو کسی نیک امام کا انتظام کرنا چاہئے۔
لما فی بدائع الصنائع: (1/386، ط: رشیدیہ)
و اما بیان من یصلح للامامۃ فی الجملۃ فھو کل عاقل مسلم حتی تجوز امامۃ العبد و الاعرابی و الاعمیٰ و ولد الزنا و الفاسق … لان جواز الصلوۃ متعلق باداء الارکان و ھولاء قادرون علیھا، الا ان غیرھم اولیٰ لان مبنی الامامۃ علی الفضیلۃ … و لان الناس لایرغبون فی الصلوۃ خلف ھولاء، فتؤدی امامتھم الی تقلیل الجماعۃ، و ذالک مکروہ
و فی المحیط البرھانی: (2/178، ط: دار احیاء التراث العربی)
اما الفاسق: فتجوز الصلوۃ خلفہ لقولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “صلوا خلف کل بر و فاجر” … و لکن مع ھذا یکرہ تقدیمہ لما فیہ من تقلیل الجماعۃ، قلما یرغب الناس فی الاقتداء بالفاسق
و کذفی الھدایہ: (1/110، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المختصر للقدوری: (29، ط: الخلیل)
و کذا فی غنیہ المتملی: (513 الی 514، ط: رشیدیہ)
و کذا فی اللباب فی شرح الکتاب: (1/90، ط: قدیمی)
و کذا فی البحر الرائق: (1/610، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (6/211، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الھندیہ: (1/84، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر: (1/559 الی 560، ط: ایچ ایم سعید)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:131