سوال

اگر ایک آدمی فسق و فجور کی وجہ سے قید ہوا، تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ دوسرے مجرموں کی نماز میں امامت کرے؟ اور اگر اس کے پیچھے پولیس والے نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز درست ہوگی؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مجبوری میں فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے لیکن مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔
جیل انتظامیہ کو کسی نیک امام کا انتظام کرنا چاہئے۔

لما فی بدائع الصنائع: (1/386، ط: رشیدیہ)
و اما بیان من یصلح للامامۃ فی الجملۃ فھو کل عاقل مسلم حتی تجوز امامۃ العبد و الاعرابی و الاعمیٰ و ولد الزنا و الفاسق … لان جواز الصلوۃ متعلق باداء الارکان و ھولاء قادرون علیھا، الا ان غیرھم اولیٰ لان مبنی الامامۃ علی الفضیلۃ … و لان الناس لایرغبون فی الصلوۃ خلف ھولاء، فتؤدی امامتھم الی تقلیل الجماعۃ، و ذالک مکروہ
و فی المحیط البرھانی: (2/178، ط: دار احیاء التراث العربی)
اما الفاسق: فتجوز الصلوۃ خلفہ لقولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “صلوا خلف کل بر و فاجر” … و لکن مع ھذا یکرہ تقدیمہ لما فیہ من تقلیل الجماعۃ، قلما یرغب الناس فی الاقتداء بالفاسق
و کذفی الھدایہ: (1/110، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المختصر للقدوری: (29، ط: الخلیل)
و کذا فی غنیہ المتملی: (513 الی 514، ط: رشیدیہ)
و کذا فی اللباب فی شرح الکتاب: (1/90، ط: قدیمی)
و کذا فی البحر الرائق: (1/610، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (6/211، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الھندیہ: (1/84، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر: (1/559 الی 560، ط: ایچ ایم سعید)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:131

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔