الجواب باسم ملھم الصواب
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل و مناقب درج ذیل ہیں
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے پوچھا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل اور بہتر کون ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا (حضرت)”ابوبکر“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ”سریہ ذات السلاسل“ میں امیر بناکر بھیجا، واپس آکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے؟“ فرمایا: ”عائشہ“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میں نے عرض کیا ”مردوں میں سے؟“ ارشاد ہوا ”عائشہ کا باپ۔“(حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم پہ جس نے بھی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ چکادیا ہے، البتہ ابوبکر کے احسانات باقی ہیں، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت ان کا بدلہ عطاء فرمائیں گے۔“ اور فرمایا: ”جتنا نفع مجھے ابوبکر کے مال نے دیا ہے اتنا نفع کسی کے مال نے نہیں دیا“۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا“ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، اہلِ مجلس کو سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ابوبکر! تم غارِ ثور میں میرے ساتھ تھے، حوض (کوثر) پر میرے ساتھ ہووگے۔
لما فی صحیح البخاری: (1/518، ط: قدیمی)
عن محمد بن الحنفیۃ قال: قلت لابی “ای الناس خیر بعد النبی صلی اللہ علیہ و سلم؟” قال: “ابوبکر
و فی الصحیح لمسلم: (2/273، ط: قدیمی)
عن ابی عثمان قال اخبرنی عمرو بن العاص ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بعثہ علیٰ جیش ذات السلاسل فاتیتہ فقلت: “ای الناس احب الیک؟” قال: “عائشہ” قلت: “من الرجال؟قال: ابوھا
و فی جامع الترمذی: (2/685، ط: رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال: “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: “مالاحد عندنا ید الا و قد کافیناہ ماخلا ابوبکر فان لہ عندنا یدا یکافیہ اللہ بھا یوم القیٰمۃ و مانفعنی مال احد قط ما نفعنی مال ابی بکر
و فی المستدرک للحاکم: (3/288، ط: قدیمی)
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: “کنا عند النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “یطلع علیکم رجل من اھل الجنۃ” فاطلع ابوبکر فسلم ثم جلس
و کذا فی صحیح البخاری (1/517، ط: قدیمی)
و کذا فی مشکوہ المصابیح (2/563، ط: رحمانیہ)
و کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ (6/353 الی 355، ط: دار الکتب العلمیہ)
و کذا فی المعجم الاوسط (4/273، ط: المعارف)
و کذا فی کنز العمال (13/5، ط: رحمانیہ)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:175