سوال

ہمارے گاؤں 66/6.کا زیادہ تر رقبہ قادیانیوں کا ہے، وہ لاہور میں رہتے ہیں، اور گاؤں میں ایک دین دار مسلمان آدمی ان کا رقبہ ٹھیکے پر لےکر خود بھی کاشت کرتا ہے اور باقی لوگ بھی اسی آدمی کو ٹھیکہ دےکر زمین کاشت کرتے ہیں، حتی کہ امام مسجد بھی یہی زمین کاشت کرتا ہے، اور یہ مذکورہ شخص ٹھیکے کی رقم ان قادیانیوں تک پہنچادیتا ہے۔ آیا اس شخص سے معاملہ کرکے زمین ٹھیکے پر لےکر کاشت کرنے کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟ نیز قادیانی، مسلمان دین دار شخص کو رقم بھی دیتے ہیں کہ وہ یہ رقم یا اس کی کوئی چیز خریدکر غرباء میں تقسیم کردے، تقسیم مسلمان ہی کرتے ہیں، البتہ لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں قادیانیوں کی طرف سے آئی ہیں، ایسی چیزیں لینے اور ان کو تقسیم کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

قادیانی زندیق ہیں، ان کی زمینیں وغیرہ ٹھیکے پر لینا بلکہ ان سے کسی بھی قسم کے کاروباری تعلقات رکھنا جائز نہیں۔
اس سلسلے کے کچھ اکابر کے فتاوی ملاحظہ فرمائیں
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“قادیانی زندیق ہیں، جن کا حکم عام مرتد سے بھی زیادہ سخت ہے۔ مرتد اور اس کا بیٹا اپنے مال کے مالک نہیں، لہذا ان کی بیع وشراء، اجارہ و استجارہ، ہبہ کا لین دین وغیرہ کوئی تصرف بھی صحیح نہیں”۔
(“احسن الفتاوی”: 1/46، ط: ایچ ایم سعید)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں
“اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زندیق ہیں، اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت نہیں سمجھتے، بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خریدو فروخت کرنا، ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں، گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کررہے ہیں، لہذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں”۔
(“آپ کے مسائل اور ان کا حل”: 2/115، ط: مکتبہ لدھیانوی)
چونکہ قادیانیوں کا سادہ لوح غریب لوگوں کی امداد کرنا دراصل اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہوتا ہے، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی فکر کریں۔
صاحبِ حیثیت مسلمانوں کو غریب اور دکھی انسانیت کی خدمت کی فکر کرنی چاہئے۔

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/07/1442/ 2021/02/24
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:93

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔