الجواب باسم ملھم الصواب
اگر آنے والے مقتدی کو امام نہ پہچان سکے کہ کون ہے تو اتنی دیر قیام و رکوع لمباکرنے کی گنجائش ہے جس سے پیچھے کھڑے مقتدی اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں، لیکن اگر امام آنے والے کو پہچان لے تو قیام و رکوع لمباکرنا مکروہ ہے۔
لما فی الفتاوی الولوالجیہ (1/108، مکتبہ الحرمین الشریفین)
و الامام فی الرکوع اذا سمع شخصا جائیا و طول الرکوع لیدرک الجائی الصلوۃ، فاذا کان الامام عرف الجائی یکرہ، لان ذالک یشبہ المیل الیہ، و ان لم یعرفہ فلاباس بذالک مقدار تسبیحۃ او تسبیحتین قدر مالایثقل علی القوم، لان فی ذالک اعانۃ علی الطاعات الامام اذا طول القرائۃ فی الرکعۃ الاولی لکی یدرک الثانی الرکعۃ فان کان التطویل تطویلا یشق علی الناس فینبغی ان الیثقل، لانہ یصیر سببا لتقلیل الجماعۃ
و فی الدر مع الرد (1/494 الی 495، ط: ایج ایم سعید)
و کرہ تحریما إطالة ركوع أو قراءة لإدراك الجائي: أي إن عرفه وإلا فلا بأس به قوله وإلا فلا بأسأي وإن لم يعرفه فلا بأس به لأنه إعانة على الطاعة، لكن يطول مقدار ما لا يثقل على القوم… ولفظة لا بأس تقيد في الغالب أن تركه أفضل… فالحاصل أن التأخير القليل لإعانة أهل الخير غير مكروه
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (6/213، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (2/1208، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (1/597، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھندیہ (1/78، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التاتارخانیہ (2/73، ط: فاروقیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (2/49، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی الھدایہ (1/108، ط: رشیدیہ)
و کذا فی مجمع الانھر (1/145، ط: المنار)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/07/1442/ 2021/02/24
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:97