سوال

امام صاحب نے عشاء کی نمازمیں چوتھی رکعت میں قعدہ کیا اورپھر کھڑے ہوگئے اورپانچویں رکعت پڑھی اورسجدہ سہو بھی کیااوران کے ساتھ ایک مسبوق بھی تھاتوکیامسبوق اورباقی آدمیوں کی نماز ہوجائےگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسبوق کی نمازفاسدہوگئی،باقیوں کی نمازہوگئی،البتہ جوشخص پانچویں رکعت میں شامل ہوااس کی اقتداءصحیح نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /92 ،رشیدیة )
ولوقال الامام الی الخامسۃ فتابعہ المسبوق ان قعد الامام علی رأس الرابعۃ تفسد صلاۃ المسبوق
وفی البحرالرائق: (2 /186 ،رشیدیة )
اذاقعدالامام فی الرابعۃ قدر التشھد وقام الی الخامسۃ ساھیاواقتدی بہ رجل لایصح اقتداءہ ولوعادالی القعدۃ لانہ لماقام الی الخامسۃ فقد شرع فی النفل فکان اقتداء المفترض بالمتنفل
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /113 ،داراحیاء ) وکذافی الشامیة: (2 /669 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (3 /98 ،فاروقیة ) وکذافی تنورالابصار مع الدر: (2 /422 ،بیروت )
وکذافی البحرالرائق: (1 /662 ،رشیدیة ) وکذافی خلاصة الفتاوی: (169 ،رشیدیة )
وکذا فی البحرالرائق: (2 /186 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:28

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔