سوال

ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر میں امتحان میں پاس ہو گیا تو چلہ لگاؤں گا اور نتیجہ آنے سے پہلے نذر کو ختم کردیا،اب آیا اس کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر منعقد ہی نہیں ہوئی،کیو نکہ نذر عبادت مقصودہ(مثلا نماز،حج،زکوۃ،روزہ اور قربانی وغیرہ)کی مانی جاسکتی ہے،چلہ لگانا کوئی عبادت مقصودہ نہیں ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /208 ،رشیدیة )
الاصل ان النذر لا یصح الا بشروط (احدھا)ان یکون الواجب من جنسہ شرعا فلذلک لم یصح النذر بعیادۃ المریض(والثانی)ان یکون مقصودا لا وسیلۃ فلم یصح النذر بالوضوءوسجدۃالتلاوۃ(والثالث)ان لایکون واجبا فی الحال وفی ثانی الحال فلم یصح بصلاۃالظھروغیرھامن المفروضات(والرابع)ان لایکون المنذور معصیۃ باعتبارنفسہ
وفی المبسوط: (8 /137 ،دارالمعرفة )
اذاحلف بالمشی الی بیت اللہ ان فعل کذا ففعل ذلک الفعل لم یلزمہ شیئ فی القیاس لانہ انما یجب بالنذر ما یکون من جنسہ واجب شرعا والمشی الی بیت اللہ لیس بواجب شرعا
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2555 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: ( 6/ 352 ،داراحیاء )
وکذافی الشامیة: (5 /539 ،رشیدیة ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (692،قدیمی)
وکذافی الھندیة: (1 / 208 ، رشیدیة) وکذافی البحرالرائق: (4 /498 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: (2 /39 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/1444/5/9
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:66

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔