سوال

حالت احرام میں خوشبووالی ٹافی یاببل کھانے کاکیاحکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صدقہ اوردم میں سے کوئی چیزواجب نہیں ہوگی،مگرحالت احرام میں اس طرح کی مشتبہ چیزوں سے بچناچاہیئے۔

لما فی غنیة الناسک: (246 ،ادارة القرآن )
فلواکل طیباکثیرا،وھوان یلتصق باکثر فمہ یجب الدم،وان کان قلیلابان لم یلتصق باکثرفمہ فعلیہ الصدقہ، ھذااذااکلہ کماھومن غیرخلط اوطبخ،فلوجعلہ فی الطعام وطبخہ،فلاباس باکلہ لانہ خرج من حکم الطیب، وصارطعاما،وکذلک کل ماغیرتہ النارمن الطیب،فلاباس باکلہ،ولوکان ریح الطیب یوجد منہ،وان لم تغیرہ الناریکرہ اکلہ اذاکان یوجدمنہ رائحۃ الطیب،وان اکل فلاشئ علیہ
وفی بدائع الصنائع: (2 /417 ،رشیدیة )
ونوع لیس بطیب بنفسہ لکنہ اصل الطیب،یستعمل علی وجہ الطیب ویستعمل علی وجہ الادام کالزیت والشیرج فیعتبرفیہ الاستعمال،فان استعمل استعمال الادھان فی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی ماکول اوشقاق رجل لایعطی لہ حکم الطیب کالشحم،ولوکان الطیب فی طعام طبخ وتغیرفلاشئ علی المحرم فی اکلہ سواء کان یوجد ریحہ اولالان الطیب صارمسھلکافی الطعام بالطبخ،وان کان لم یطبخ یکرہ اذاکان ریحہ یوجدمنہ ولاشیئ علیہ
وکذافی البحرالرائق: (3 /9 ،رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (3 /2298 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1444/8/4/2023
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:27

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔