سوال

ایک بندے نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں تمہیں تین لفظ کہتا ہوں اوروہ یہ ہیں کہ میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں نے تمہیں دفع کیا،کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس شخص نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تواس عورت کوایک طلاق بائن واقع ہوگئی لہذا یہ شخص دوبارہ نکاح کے بغیر اس عورت کواپنے پاس نہیں رکھ سکتا،لیکن اگراس شخص نے ان الفاظ کے ساتھ طلاق کی نیت نہیں کی تھی توطلاق واقع نہ ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /376 ،رشیدیة )
ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منی
وفی الھندیة: (1 /377 ،رشیدیة )
ولایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھاانت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ
وفی الھدایة: (2 /101 ،بشری )
وبقیۃ الکنایات اذانوی بھاالطلاق کانت واحدۃ،وان نوی ثلاثاکان ثلاثا،وان نوی ثنتین کانت واحدۃ بائنۃ،وھذامثل قولہ :انت بائن،وبتۃ وبتلۃ،وحرام،وسرحتک،وفارقتک،واذھبی،وقومی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاان یکون فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق فیقع بھاالطلاق فی القضاء،ولایقع فیمابینہ وبین اللہ تعالی الاان ینویہ
وکذافی القدوری: ( 173 ،الخلیل ) وکذافی کنزالد قائق: (120 ،حقانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (9 /6958 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (4 /516 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (2 /101 ،بشری ) وکذافی المحیط البرھانی: (4 /420 ،داراحیاء )
وکذافی الفقہ الحنفی: (2 /172 ،الطارق ) وکذا فی البنایة: (5 /105 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:109

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔