سوال

نماز شروع کرتے وقت ایک شخص نے زبان سے دو رکعت فرض کی نیت کی لیکن تکنیر کے بعد یاد آیا کہ میں عصر کی نماز پڑھ رہا ہوں،اب وہ شخص دل میں چار رکعت کی نیت کر لیتا ہے تو کیا اسکی نماز درست ہوگئی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر صرف زبان سے غلطی ہوئی ہےتو نماز ہوگئی اور اگر دل میں دو ہی کا ارادہ تھا تو نماز لوٹانی پڑے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1/273 ،رشیدیہ )
فاذا ذکرہ بلسانہ کان عونا علی جمعہ ثم رایتہ فی التجنیس قال:والنیۃ بالقلب لانہ عملہ،والتکلم لا معتبربہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /43 ،فاروقیہ )
وسئل ایضاً عمن یقول بلسنہ عند الشروع فی الصلاۃ قبل التکبیر”درآمدم بنماز“اویقول”اقتداءکردم بامام“ھل یصح ھذا وانہ اخبار عن الماضی؟قال:المعتبر قصد القلب،فان کان من قصدہ انہ یدخل فی صلاۃ نفسہ او شرع فی الصلاۃ متابعا للامام فیھا یکفیہ ذلک،ولایضرہ خلل اللفظ کما لا یضرہ عدم اللفظ
وکذافی شرح الحموی: (1 /157 ،ادارہ القرآن )
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /40 ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 201 ،الطارق )
وکذافی النھر الفائق: (1 / 187 ، قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایہ: (1 /158 ،بشریٰ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /330 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /156 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9/11/2022
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:78

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔