الجواب حامداً ومصلیاً
شارک مچھلی کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ حلال ہے جیساکہ ”الموسوعۃ الفقہیۃ“وغیرہ میں اوربعض دیگراھل علم حضرات فرماتے ہیں کہ حرام ہے،لیکن ہم نے جب اس میں غورکیا تویہ صرف شکل وصورت میں مچھلی کے مشابہ ہے باقی جتنی صفات ہیں وہ مچھلی والی نہیں مثلا(1) حیض کاآنا(2) انڈے نہیں ،بچے دینا(3) حملہ آور ہونا،لہذاچونکہ یہ مچھلی کے صرف صورت میں مشابہ ہے،باقی اس کے دوسرے اوصاف درندوں اور دیگرجانوروں والے ہیں،مچھلی والے نہیں اس لیے یہ حرام ہے۔
لما فی الموسوعة الفقھیة: (5 /131 ،علوم اسلامیة )
والتمساح لان لہ نابا یفترش بہ لکنھم لم یستثنواسمک القرش فھوحلال ،وان کان لہ ناب یفترش بہ والظاھران التفرقۃ بینھما مبنیۃ علی ان القرش نوع من السمک لایعیش الا فی البحر بخلاف التمساح
وفی وفی فتح الباری: (9 /773 ،قدیمی )
وذکرالاطباء ان الضفدع نوعان بتی وبحری،فالبری یقتل آکلہ والبحری یضرہ،ومن المستثنی ایضا التمساح لکونہ یعدو بنابہ وعنداحمد فیہ روایۃ،ومثلہ القرش فی البحرالملح خلافالماافتی بہ
وکذافی الھندیة: (5 / 289 ،رشیدیة ) وکذافی تنویرالابصار: (6 /306 ،ایچ،ایم سعید )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2791 ، رشیدیة) وکذافی تکملة فتح الملھم: (3 /507 ،دارالعلوم )
وکذافی التجرید: (12 /6366 ،محمودیة ) وکذافی الھدایة: (4 /77 ،بشری )
وکذافی التاتارخانیة: (18 /490 ،فاروقیة ) وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /114 ،رشیدیة )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:27