الجواب حامداً ومصلیاً
ہر ممکن ذریعے سے مثلاًمدرسے کے ریکارڈ وغیرہ سے ان کے مالکان کا پتا کیا جائے اور ممکنہ پلیٹ فارمز پر اعلان بھی کرایا جائے یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ ان کے مالک نہیں آئیں گے تو ان موبائلوں کو بیچ کر ان کی رقم بطور صدقہ مدرسے یا پھر کسی کارخیر میں لگائی جا سکتی ہے،لیکن اگر بعد میں کوئی مالک آگیا اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہوا تو موبائل ضبط کرنے والے یا کروانے والے کو اسکی قیمت دینا پڑے گی۔
لما فی النھرالفائق: (3 /278 ،قدیمی کتب خانہ )
لقطۃالحل والحرم امانۃ ان اخذھا لیردھا علی ربھا واشھد وعرف الی ان علم ان ربھا لا یطلبھاثم تصدق فان جاء ربھا نفذہ او ضمن الملتقط
وفی الھندیہ: (2 /289 ،رشیدیہ )
ثم بعد تعریف المدۃ المذکورۃ الملتقط مخیر بین ان یحفظھا حبسہ وبین ان یتصدق بھا فان جاء صاحبھا فامضی الصدقۃ یکون ثوابھا وان لم یمضھا ضمن الملتقط اوالمسکین ان شاء لو ھلکت فی یدہ فان ضمن الملتقط لا یرجع علی الفقیر وان ضمن الفقیر لایرجع علی الملتقط
وکذافی الھدایہ: (2 /414 ،بشریٰ ) وکذافی التاتارخانیہ: (7 /424 ،فاروقیہ )
وکذافی الدارقطنی: (4 /108 ،العلمیہ ) وکذافی البحرالرائق: (5 /257 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (6 /434 ،رشیدیہ ) وکذافی البنایہ: (6 /770 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (5 /299 ،رشیدیہ ) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/ 172 ،داراحیاء )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:79