سوال

عورت اعتکاف کے لیے مسجد میں بیٹھے یاگھرمیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کامسجدمیں اعتکاف بیٹھنامکروہ ہے،اپنے گھرمیں نمازکے لیے جوجگہ بنائی گئی ہےوہیں اعتکاف بیٹھے۔

لما فی الشامیة: (3 / 494 ،رشیدیة )
امرأۃ فی مسجدبیتھا)ویکرہ فی المسجدای:تنزیھاکماھوظاھرالنھایۃ.وصرح فی البدائع بانہ خلاف الافضل
وفی البحرالرائق: (2 /527 ،رشیدیة )
والمرأۃتعتکف فی مسجد بیتھا یرید بہ الموضع المعد للصلاۃلانہ استرلھا،واشار تعتکف دون ان یقول یجب علیھاالی ان اعتکافھا فی مسجد بیتھاافضل فافاد ان اعتکافھافی مسجد الجماعۃ جائز وھومکروہ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (699 ، قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /379 ،داراحیاء )
وکذافی التاتارخانیة: ( 3/ 343 ،فاروقیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /281 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /119 ،بیروت )
وکذافی تبیین الحقائق: (1/ 350 ،امدادیة )
وکذا فی فتح القدیر: (2 /400 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/1444/9/3
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:160

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔