سوال

کچھ عورتیں نذر مانتی ہیں کہ میری اولاد ہوگی تو میں گھر،گھر جا کر بھیک مانگوں گی اور اس کو لوگوں پر خیرات کروں گی تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر ٹھیک نہیں ہے،لہذااس کا پورا کرنا درست نہیں ہے۔

لما فی الشامیة: (5 /548 ،رشیدیة )
نذران یتصدق بالف من مالہ وھو یملک دونھا لزمہ)ما یملک منھا(فقط)لانہ فیما لم یملک لم یوجد النذر فی الملک ولا مضافا الی سببہ فلم یصح۔۔۔۔۔۔۔۔وشرط صحۃ النذر ان یکون المنذور ملکا للناذر او مضافا الی السبب
وفی سنن ابی داود: (2 /115 ،رحمانیة )
عن عمران بن حصین عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن ادم
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2558 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (6 /284 ،فاروقیة )
وکذافی البحرالرائق: (4 /498 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (3 /63 ،قدیمی )
وکذافی بدائع الصنائع: (4 /102 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (6 /352 ،داراحیاء )
وکذافی التجرید: (12 /6512 ،محمودیة ) وکذا فی سنن النسائی: ( 2/115 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:95

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔