سوال

کیا یہ بات درست ہے کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت پورے چالیس دن ناپاک رہتی ہے اگرچالیس دن سےپہلے خون بند ہوجائے،تب بھی یہ نمازوغیرہ نہیں پڑھے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ بات درست نہیں کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت چالیس دن ناپاک رہتی ہے بلکہ چالیس دن سے پہلے بھی اگر خون بندہوجائے تونمازوغیرہ شروع کردے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1 /190 ،رشیدیة )
واقل النفاس لاحدلہ)لاحد لاقل النفاس اتفق اصحابناعلی ان اقل النفاس مایوجد فانھاکماولدت اذارأت الدم ساعۃ ثم انقطع عنھاالدم فانھاتصوم وتصلی
وفی حاشیة الھدایة: (1 /122 ،بشری )
لاحدلہ:وعلیہ اتفق اصحابنا،فلوانقطع دل النفاس بعدالولادۃ فی ساعۃ یجب علیھاان تصوم وتصلی بعدالاغتسال ، صرح بذلک شیخ الاسلام فماتعارف فی زمانناھذامن ان النساءلاتؤدین الفرائض الابعدانقضاء اربعین یوماوان انقطع الدم قبلہ،ذنب کبیر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /157 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (1 /696 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /146 ،الطارق ) وکذافی الھندیة: (1 /37 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /216 ،دارالمعرفة ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (1 / 140 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة: (1 /538 ،فاروقیة ) وکذا فی مجمع الانھر: ( 1/ 82 ، المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/171444/5/22
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:178

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔