سوال

اگر کسی آدمی کی ملازمت کے دوران ایسی جگہ تقرری ہوجائے جو مسافت سفر پر ہو لیکن اسے وہاں قیام کی مدت معلوم نہ ہو۔یعنی کسی بھی وقت دوسری جگہ منتقلی ہوسکتی ہوتووہاں پرنمازقصرہوگی یامکمل؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

وہاں پر نماز قصرہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /139 ،رشیدیة )
ولایزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ اوقریۃ خمسۃ عشر یوما اواکثر
وفی وفی الشامیة: (2 /731 ،رشیدیة )
اودخل بلدۃ ولم ینو)ای:مدۃ الاقامۃ (بل ترقب السفر)غدا اوبعدہ(ولوبقی)علی ذلک(سنین)الاان یعلم تاخرالقافلۃ نصف شھرکمامر(وکذا)یصلی رکعتین
وکذافی الھدایة: (1 /262 ، بشری) وکذافی الفقہ الاسلامی: (2 /1347 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (2 /233 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (2 /496 ،فاروقیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /241 ،المنار ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (426،قدیم)
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /268 ،رشیدیة ) وکذا فی المبسوط: (1 /237 ،دارالمعرفة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:90

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔