سوال

اگربیوی نفل روزہ سے ہواور خاونداسے ہمبستری کے لئے بلائے توکیاعورت روزہ توڑسکتی ہے یا نہیں؟اوراگرروزہ توڑلے توبعد میں اس کی قضا ہوگی یانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

خاوندکوبتادے کہ میراروزہ ہے اگرپھربھی بلائےتوروزہ توڑدے اوراس کے پاس چلی جائے،بعدمیں قضاکرلے۔

لما فی البخاری: ( 2/ 289 ،رحمانیة )
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لاتصوم المرأوبعلھا شاھد الاباذنہ
وفی الدر المختار: (2/ 430، ایچ،ایم،سعید)
ولاتصوم المرأۃنفلاالاباذن الزوج الاعند عدم الضرربہ ولوفطرھاوجب القضاءباذنہ
وکذافی سنن ابی داؤد: (1 /355 ،رحمانیة ) وکذافی المسلم : (1 /387 ، رحمانیة)
وکذافی حاشیة مسلم: (1 /387 ،رحمانیة ) وکذافی الھندیة: (1 /201 ،رشیدیة )
وکذافی فیض القدیر: (6 /528 ،بیروت ) وکذافی فتح الباری: (9 /369 ،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (28 /99 ،علوم اسلامیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/13/21/7/1444
جلد نمبر: 29 فتوی نمبر: 34

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔