الجواب حامداً ومصلیاً
مذکورہ زمین نہ مسجد ہے نہ ہی مسجد کے حکم میں ہے،لہذااس زمین کو بیچ کر اس کی رقم سے دوسری جگہ مسجد کے لئے زمین خریدنا جائز ہے۔
لما فی الھدایة: (2 /453 ،بشریٰ )
واذابنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفرزہ عن ملکہ بطریقہ،ویأذن للناس بالصلاۃ فیہ،فاذا صلی فیہ واحدا زال عند ابی حنیفۃ عن ملکہ۔اماالافرازفلانہ لایخلص للہ تعالی الا بہ،واماالصلاۃفیہ فلانہ لابد من التسلیم عند ابی حنیفۃ ومحمد،ویشترط تسلیم نوعہ،وذلک فی المسجد بالصلاۃ فیہ،او لانہ لماتعذرالقبض یقام تحقق المقصودمقامہ
وفی بدائع الصنائع: (5 /326 ،رشیدیة )
واجمعوا علی ان من جعل دارہ او ارضہ مسجدا یجوز وتزول الرقبۃ عن ملکہ لکن عزل الطریق وافرازہ والاذن للناس بالصلاۃ فیہ والصلاۃ شرط عند ابی حنیفۃ ومحمد حتی کان لہ ان یرجع قبل ذلک
وکذافی التاتارخانیة: (8 /156 ،فاروقیة ) وکذافی البحرالرائق: (5 /416 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (12 /34 ،دارالمعرفة ) وکذافی الشامیة: (6 /546 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (2 / 454 ، رشیدیة) وکذافی البنایة: (6 /925 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (3 /329 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (3 /328 ،قدیمی )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:94