سوال

کیا معتکف آدمی جنازہ پر جا سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

معتکف کا صرف جنازہ کے لئے مسجد سے جانا جائز نہیں البتہ اگر اپنی طبعی یا شرعی حاجت(مثلا پیشاب پاخانہ یاجمعہ کی ادائیگی وغیرہ)کے لئے نکلا ہواوراس کے راستے ہی میں جنازہ تیارہو توپڑھ سکتاہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (2 /284 ،رشیدیة )
 ویجوز ان تحمل الرخصۃ علی ما اذاکان خرج المعتکف لوجہ مباح کحاجۃ الانسان او للجمعۃ ثم عاد مریضا او صلی علی جنازۃ من غیر ان کان خروجہ لذلک قصدا،وذلک جائز
وفی البحرالرائق: (2 /529 ،رشیدیة )
واشار الی انہ لوخرج لحاجۃ الانسان ثم ذھب لعیادۃ المریض او لصالاۃ الجنازۃ من غیر ان یکون لذلک قصد فانہ جائز بخلاف مااذاخرج لحاجۃ الانسان ومکث بعد فراغہ انہ ینتقض اعتکافہ
وکذافی الھندیة: (1 /213 ،رشیدیة ) وکذافی تبیین الحقائق: (1 /351 ،رشیدیة )
و کذافی الشامیة: (3 /506 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /445 ،فاروقیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /380 ،داراحیاء ) وکذافی النھرالفائق: (2 /46 ،قدیمی )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (3 /1766 ،رشیدیة ) وکذافی سنن ابی داود: (1 /357 ،رحمانیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:58

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔