سوال

اگرمیت کوکسی شرعی عذرکی وجہ سے تیمم کرایہ جائے توتیمم کاکیاطریقہ ہے؟پورے جسم پریاہاتھوں اورچہرے پرتیمم کرایاجائے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عذرکی وجہ سے میت کوویسے ہی تیمم کرایاجائے جیسے نمازکے لئے کیاجاتاہے،یعنی جوشخص تیمم کرائے وہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیر کرپہلے میت کے چہرے پرپھیردے،پھردوسری مرتبہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیرکردونوں کہنیوں تک پھیردے۔

لما فی التاتارخانیة: (3 /13 ،فاروقیة )
غسل المیت یسقط باسباب،احدھا:انعدام الغاسل،حتی ان الرجل اذامات بین یدی النسآءفی السفرییمم والثانی:انعدام ماءیغسل بہ فاذامات الرجل فی السفرولیس ھناک ماءطاھرییمم ویصلی علیہ
وفی الشامیة: (1 /435 ،رشیدیة )
التیمم ضربتان:ضربۃ للوجہ،وضربۃ للیدین الی المرفقین،فقلت:کیف ھو؟فضرب بیدیہ علی الصعیدفاقبل بھماوادبرثم نفضھماثم مسح بھماوجھہ،ثم عادکفیہ علی الصعیدثانیافاقبل بھماوادبرثم نفضھما،ثم مسح بذلک ظاھرالزراعین وباطنھماالی المرفقین
وکذافی الھدایة: (1 /49 ،المیزان )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /50 ،داراحیاء )
وکذافی الھندیة: (1 /26 ،رشیدیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /61 ،المنار )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /165 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /153 ،قدیمی )
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 /34 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/6/15/9/1444
جلد نمبر:30فتوی نمبر:25

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔