سوال

ہمارے علاقے میں دوکان کا کرایہ عموما بیس ہزار پے ہوتا ہے،لیکن بعض لوگ اسی علاقے میں بارہ یا تیرہ لاکھ ایڈوانس قرض لیتے ہیں اور ماہانہ کرایہ پانچ یا چھ ہزار طے کرتے ہیں ایڈوانس لینے کی وجہ سے ،کیا اس طرح کرنا درست ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بظاہر سود خوروں نے یہ حیلہ سود خوری کے لیے ہی ایجاد کیا ہے اس لیے بالکل درست نہیں ہے۔

لما فی الشامیہ: (7 /413 ،رشیدیہ)
قولہ کل قرض جر نفعاحرام)ای اذاکان مشروطا
وفی المصنف لابن ابی شیبة:(4/333،دارالکتب)
حدثنا أبو بکر قال حدثنا حفص عن أشعث عن الحکم بن إبراھیم قال: کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (9 /388 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،بیروت)
وکذا فی المبسوط:(14/35،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/220،طارق)
وکذا فی البدائع:(6/518،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(3/105،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔