سوال

باپ اپنےبیٹوں کوزکوۃدےسکتاہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین اپنی اولاد کوزکوۃنہیں دےسکتے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3/1968 ،رشیدیہ)
فلاتدفع الزکاۃﺇلی الوالدین وﺇن علوا(أی الأجداد)والمولودین وﺇن سفلوا (أی الأ حفا د والأسباط)
وفی المبسوط: (3 /11 ،دارالمعرفة )
ولایعطی زکاتہ وعشرہ ولدہ وولدولدہ وأبویہ وأجدادہ وکل من ینسب الی المئودی بالو لادۃأوینسب الیہ بالولادۃ
وکذافی خلاصتہ الفتاوی: (1 /242 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایة: (1 /223 ،المیزان )
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /371 ، الطارق)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /206 ،فاروقیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (2 /425 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (3 /212 ،دارأحیاءتراث )
وکذا فی بدائع الصنائع: (2 /162 ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3 /344 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:69

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔