سوال

میں نے اپنے دوست سے دوکان کرایہ پر لی ہے اور کرایہ طے نہیں کیا،بلکہ میرے دوست نے کہا ہےکہ آپ کو جوماہانہ نفع ہو اس میں سے مجھے بھی کچھ دے دیا کرو کرایہ متعین نہیں کیا،کیا اجارہ داری میں اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح معاملہ کرنا درست نہیں ،انہیں فی الفور اس دوکان کا کرایہ متعین کر لینا چاہیے،ورنہ یہ دونوں گنہگار ہوں گے۔

لما فی الشامیہ: (9 /9 ،رشیدیہ)
وشرطھا:کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وفی الفقہ الحنفی:(4/342،طارق)
یشترط فی الإجارۃ أن تکون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (15 /7 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/217،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3822،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لابن ابی شیبة:(4/371،دارالکتب)
وکذا فی الھدایة:(3/296،رحمانیة)
وکذا فی البحرالرائق: (7 /507 ،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:138

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔