سوال

آج کل اکثر مالش کرنے والے جب مالش کرتےہیں توٹانگوں پر گھٹنوں کے اوپر بھی تیل کی مالش کرتے ہیں بغیر کسی چیز کے حائل کے،توکیاران پرتیل کی مالش کرانا شرعاًجائز ہے یانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی عذر کے بغیر گھٹنوں سے اوپر مالش کرنا جائز نہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(8/24،بیروت)
یجوز أن ینظر الرجل إلی الرجل إلی جمیع جسدہ الا الی عورتہ،وعورتہ مابین سرتہ حتی یجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ وماجازالنظرالیہ جاز مسہ،لان مالیس بعورۃ فمسہ والنظرالیہ علی السواء
وفی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
أما بیان القسم الاول)فنقول ویجوزأن ینظر الرجل الی الرجل الاالی عورتہ،کذافی المحیط وعلیہ الاجماع کذافی الاختیار شرح المختار،وعورتہ مابین سرتہ حتی تجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ومایباح النظر للرجل من الرجل یباح المس
وکذافی الشامیہ: (9 /602 ، دارالمعرفة)
وکذا فی البحرالرائق: (8 /353 ،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(2/385،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(4/102،بشرٰی)
وکذا فی المبسوط:(10/146،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(6/18،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:174

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔