الجواب حامداً ومصلیاً
جی نکاح بھی ٹوٹ جائے گا اور وہ باپ پرہمیشہ کے لیے حرام بھی ہوجائے گی۔
لما فی الھندیة: (1 /274 ،رشیدیہ)
وکماتثبت ھذہ الحرمۃبالوطءتثبت بالمس والتقبیل والنظرالی الفرج بشھوۃکذافی الذخیرۃ
وفی الشامیہ: (4 /121 ،رشیدیہ)
وإن ادعت الشھوۃ)فی تقبیلہ أوتقبیلھاابنہ(وأنکرھاالرجل فھومصدق)لاھی(إلاان یقول الیھامنتشراً) آلتہ(فیعانقھا)لقرینۃکذبہ او یاخذ ثدیھااویرکب معھا او یمسھا علی الفرج او یقبلھا علی الفم
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 213 ، رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/537،رشیدیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/101،امدادیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/480،المنار)
وکذا فی کنزالدقائق:(98،حقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /48 ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /179 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/86،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر57