سوال

ایک شخص جائیدادتقسیم کرکےچھوٹے بیٹے کے ہاں قیام پزیر تھا،پھر بیمار ہوا تو بڑے بیٹے کے پاس چلا گیا، جب ٹھیک ہوتا ہےتو چھوٹے بیٹے کے پاس چلا جاتاہےاوربیماری میں بڑے بیٹے کے پاس ہی فوت ہوگیااور بیوی بھی ساتھ بڑےبیٹے کے پاس تھی،توبیوی اب عدت کس بیٹے کے گھرگزارے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صحت کے زمانے میں چھوٹے بیٹے کے پاس رہتا تھااور بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،اس سے معلوم ہوااصل والد صاحب کی رہائش چھوٹے بیٹے کے پاس ہی تھی،البتہ بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،لھذاصورت مسئولہ میں بیوہ کو چھوٹے بیٹے کے گھر ہی عدت گزارناچاہیے۔

لما فی الھدایة:(2/407،رشیدیہ)
وعلی المعتدۃان تعتدفی المنزل الذی یضاف الیھابالسکنی حال وقوع الفرقۃوالموت
وفی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھاالذی تؤمربالسکون فیہ للاعتدادھوالموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ
وکذافی شرح الوقایہ:(2/153،امدادیہ)
وکذافی لمختصرالقدوری:(188،الخلیل)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/154،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(2/85،الحرمین شریفین)
وکذافی البحرالرائق: (4 /259 ،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /536 ،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:55

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔