سوال

ہمارے محلے کی مسجد بہت چھوٹی ہے اور اس کی تعمیر کی ضرورت ہے،تو کیا ہم اپنی فصل کا جوعشرہے اس کی رقم مسجد کی تعمیر پے لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ وعشر کی رقم مسجد کی تعمیر پے لگانا جائز نہیں،بلکہ کسی بھی مستحق اور نادر کو یہ رقوم مالک بنا کر دینا ہوتی ہیں۔

لما فی الھندیة: (2 /202 ،رشیدیہ)
ولا یجوزان یبنی بالزکاۃالمسجدوکذالقناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل ما لاتملیک فیہ
وفی الشامیہ: (2 /344 ،سعید)
ویشترط ان یکون الصرف(تملیکا)لاإباحۃکمامر(لا)یصرف(إلی بناء)نحو(مسجد)۔۔۔۔تحتہ
قولہ تملیکا)فلایکفی فیھاالإطعام إلابطریق التملیک ولوأطعمہ عندہ ناویاالزکاۃلاتکفی۔۔۔۔۔(قولہ نحومسجد) کبناء بالزکاۃالمسجدوکذالقناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل ما لاتملیک فیہ وقدمناأن الحیلۃأن یتصدق علی الفقیرثم یأمرہ بفعل ھذہ الأشیاء
وکذا فی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /208 ،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط:(2/202،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(1/327،بشرٰی)
وکذافی الفتاوی الو لوالجیة:(1/180،حرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1958،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:176

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔