الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں اس آدمی کا زکوۃ لینا جائزنہیں تھا،لہذااصل مالک کورقم واپس کرے اگر وہ فوت ہوگیا ہے تواس کے ورثاء کو دے،اگر کوئی نہیں مل رہا تو اس کی طرف سے صدقہ کردے (2)اگر زکوۃ دینے والے نے زکوۃ دیتے وقت مستحق سمجھ کردی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ غیرمستحق ہے توزکوۃ اداہوجائےگی اوراگرادائیگی کے وقت بغیرسوچے،سمجھے،خالی الذہن ہوکردی،پھر معلوم ہوا کہ وہ مستحق نہیں تھا،توزکوۃ ادانہیں ہوئی بلکہ دوبارہ اداکرناہوگی۔
لما فی الھندیة: (1 /189 ،رشیدیہ)
اذاشک وتحری فوقع فی اکبر رأیہ انہ محل الصدقۃ فدفع الیہ أوسال منہ فدفع أورآہ فی صف الفقراءفدفع فان ظھرانہ محل الصدقۃ جاز بالاجماع ۔۔۔۔۔أوالزوجۃفانہ یجوز وتسقط عنہ الزکاۃ۔۔۔۔۔واذادفعھا ولم یخطر ببالہ انہ مصرف أم لافھوعلی الجوازالااذا تبین انہ غیر مصرف واذادفعھا الیہ وھوشاک ولم یتحر أوتحری ولم یظھرلہ انہ مصرف أوغلب علی ظنہ انہ لیس بمصرف فھوعلی الفساد الا اذا تبین انہ مصرف
وفی الھندیة: (1 /189 ،رشیدیہ)
ولا یجوز دفع الزکاۃ الی من یملک نصاباأی مال کان دنانیر اودراھم أوسوائم أوعروضاللتجارۃ أو لغیر التجارۃ فاضلا عن حاجتہ فی جمیع السنۃ ھکذافی الزاھدی
وکذا فی البحرالرائق: (2 /426 ،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /353 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/163،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/329،بشرٰی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1966،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/318،قدیمی)
وکذا فی العنایہ: (3 /557 ،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:48