الجواب حامداً ومصلیاً
نکاح کے صحیح ہونے کےلیےدومرد یاایک مرد اوردو عورتوں کی گواہی اور ایک مجلس میں ایجاب وقبول کا ہونا ضروری ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ گواہ بھی موجود نہیں اور مجلس بھی ایک نہیں لہذا یہ نکاح نہیں ہوا۔
لما فی الھندیة: (1 /269 ،رشیدیہ)
ومنہا)أن یکون الایجاب والقبول فی مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس بان کان حاضرین فاوجب احدھما مقام الآخر عن المجلس قبل القبول او اشتغل بعمل یوجب اختلف المجلس لاینعقد
وفی فتح القدیر: ( 3/ 184 ، رشیدیہ)
قال (ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین۔۔۔۔۔(لانکاح الا بشھود)
وکذا فی تقریرات الرافعی مع ردالمحتار:(4/86،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (4 /86 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/490،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /126 ،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/2/2023/6/8/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر:41