سوال

عمرہ کرنے سے حج فرض ہوگا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محض عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی عمرہ کے لیے جائے اور حج کے مہینے شروع ہوجائیں یا وہ حج کے مہینوں ہی میں عمرہ کے لیے جائے اور اس کے لیے حج ادا کرنے تک،خرچہ کی دستیابی اور حکومتی اجازت کے ساتھ، وہاں رہنا ممکن ہو تو پھر اس پر حج فرض ہوجائے گا۔

لما فی غنیة الناسک:(22/ادارةالقرآن)
السابع: الوقت، ای وجود القدرۃ فیہ، وھو اشھرالحج، او وقت خروج اھل بلدہ ان کانوا یخرجون قبلھا ، فلا یجب الا علی القادر فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ فقیر آ فاقی قدم مکۃ قبل اشھرالحج ، او صبی مکی بلغ، او عبد عتق، او کافر اسلم بمکۃ قبل اشھر الحج، ھل یجب علیھم الحج فی الحال ام لا یجب ما لم یدرکوا الا شھروھم بمکۃ؟ فعلی القول بان الوقت شرط الوجوب لا یجب ، وعلی القول بانہ شرط الاداء یجب
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /471،فاروقیہ)
وان کان صحیح البدن الا انہ لا یملک الزاد والراحلۃ لکن بذل لہ الغیر الزاد والراحلۃ فی طریق الحج، ومعناہ انہ اباح لہ غیرہ لا تثبت الاستطاعۃ عندنا ۔۔۔۔۔۔۔ وکان الکرخی یقول: انما تشترط الراحلۃ فی حق من بعد عن مکۃ، فاما اھل مکۃ ومن حولھا فلا تشترط الراحلۃ فی حقھم۔ وفی الینابیع: اذا کانوا قادرین علی المشی، ولکن لا بد ان یکون لھم من الطعام بمقدار ما یکفیھم ولعیالھم بالمعروف الی حین عودھم
وکذافی البنایة:(4/7،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(2/420،رشیدیہ)
وکذافی لباب المناسک:(54،فاروقیہ)
وکذافی ارشاد الساری:(54،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/415،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/539،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الشلبی علی تبیین الحقائق:(2/5،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/07/15/7/1444
جلد نمبر؛29 فتوی نمبر:25

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔