سوال

یہ جو لوگ قرآن کی قسم کھاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے، یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن کریم کی قسم اٹھا نے سے ہو جاتی ہے۔

لما فی الھندیة: (2 /53 ،رشیدیہ)
وقال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الاصل لو قال والقرآن لا یکون یمینا ذکرہ مطلقا والمعنی فیہ وھو ان الحلف بہ لیس بمتعارف فصار کقولہ وعلم اللہ وقد قیل ھذا فی زمانھم اما ما فی زماننا فیکون یمینا وبہ ناخذ و نامر ونعتقد و نعتمد، وقال محمد بن مقاتل الرازی لو حلف بالقرآن قال یکون یمینا وبہ اخذ جمھور مشیخنا رحمھم اللہ تعالی کذا فی المضمرات
وفی الشامیة :(3/713،ایچ ایم سعید)
لا ) یقسم ( بغیر اللہ تعالی کا لنبی والقرآن والکعبۃ ) ۔۔۔۔۔ امافی زماننا فیمین وبہ ناخذ و نامر ونعتقد، وقال محمد ابن مقاتل الرازی: انہ یمین۔ وبہ اخذ جمھور مشایخنا
وکذافی البدائع:(3/11،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(238،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/67،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (6 /16 ،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(7/256،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/4/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:182

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔