الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں دیت کی رقم مقتول بھائی کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی، شرعی ورثاء یعنی اگرشادی شدہ تھا تو اس کی اولاد، بیوی،والدہ اور بہن بھائی وغیرہ کی تفصیل بتلا کر ان کا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے اور دس ایکڑ میں سے جو ایک ایکڑ زمین مدرسہ کو وقف کی ہے، اگر تمام ورثاء خوش دلی سے اس پر راضی ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ صرف اجازت دینے والوں کے حصہ سے وقف ہو گی۔
لما فی الشامیة :(10/528،رشیدیہ)
واعلم انہ یدخل فی الترکۃ الدیۃ الواجبۃ با لقتل الخطا او بالصلح عن العمد
وفی الھندیة: (6 /7 ،رشیدیہ)
ویستحق القصاص من یستحق میراثہ علی فرائض اللہ تعالی فید خل فیہ الزوج والزوجۃ وکذا الدیۃ
وکذافی الھدایة:(4/239،بشریٰ)
وکذافی البنایہ: (12 /153 ،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/121،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر: ( 10/ 264 ، رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/6/15/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:185