سوال

خاوند نے بیوی کو کہا کہ اگر آپ زندگی میں جب بھی میرے نکاح میں ملتان گئی تو میری طرف سے آپ کو طلاق ہوگی اور اپنے بارے میں بھی کہاکہ اگر میں ملتان گیا تو بھی آپ کو طلاق ہوگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں میاں بیوی میں سے جو بھی ملتان جائے گا تو بیوی کو ہر مرتبہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

لما فی الفتاوی الھندیة: (1/418 ،رشیدیہ )
ولو قال کلما دخلت ھذہ الدار فان کلمت فلانا فأنت طالق فدخل الدار ثلاثا وکلم فلانا مرۃ طلقت ثلاثا
وفی بدائع الصنائع: (3/3 9، رشیدیہ)
قال لامرأتہ کلما دخلت ھذہ الدار فأنت طالق یحنث۔۔۔ثم فی کلمۃ کل اذا دخلت مرۃ فطلقت ثم دخلت ثانیا لم تطلق وفی کلمۃ کلما تطلق فی کل مرۃ تدخل وانما کان کذلک لان کلمۃ کل کلمۃ عموم وإحاطۃلما دخلت علیہ
وکذافی الھدایہ: ( 2/ 90 ،بشریٰ)
وکذا فی کنز ا لدقائق مع تبیین الحقائق: (2 / 203 ،امدادیہ)
وکذا فی رد المحتار: (4 /595 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ: ( 4/ 584،فاروقیہ )
وکذا فی کنز ا لدقائق مع ا لبحرا لرا ئق: (3/462 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (9 /6916 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (4 /409 ،دار احیاء التراث)
وکذا فی مجمع الانھر: (2 /19 ،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/15/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:91

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔