الجواب حامداً ومصلیاً
اصل یہ ہے کہ خریداروں کو خالص دودھ دیا جائے البتہ گرمی کی وجہ سے خراب ہونے سے بچانے کے لیے برف کو شاپر وغیرہ میں ڈال کر یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے ،لیکن پھر بھی اگر برف ڈالنے کی ضرورت محسوس ہو تو بقدر ضرورت استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اگر برف کا ایک ٹکڑا بھی زائد ڈالا تو یہ ملاوٹ اور دھوکہ شمار ہوگا۔
لما فی الصحیح المسلم: (1 / 70،الحسن )
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت اصابعہ بللا فقال ما ھذا یا صاحب الطعام قال اصبتہ السماء یا رسول اللہ قال افلا جعلتہ فوق الطعام کی یداہ الناس من غش فلیس منی
وفی جامع الترمذی: (1 / 378، رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت اصابعہ بللا فقال ما ھذا یا صاحب الطعام قال اصبتہ السماء یا رسول اللہ قال افلا جعلتہ فوق الطعام حتی یداہ الناس ثم قال من غش فلیس منا
وکذافی تبیین الحائق: (4 / 31 ، امدایہ)
وکذا فی الھندیة: (3 / 210، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (10 / 371،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : (8 / 304 ، فاروقیہ)
وکذا فی شرح المجلہ: ( 2/88،89 ، حقانیہ)
وکذا فی مشکوة المصابیح : (1 / 254، رحمانیہ)
وکذا فی مرقاة المفاتیح شرح مشکوةالصابیح : ( 6/ 84، التجاریہ)
واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:108