سوال

ایک آدمی کو رکوع میں یاد آیا کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی اس نے واپس آکر دعائے قنوت پڑھی اور بھول کر چوتھی رکعت ساتھ ملا لی آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو اس کی نماز ہو گئی یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر یہ آدمی تیسری رکعت کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھا تھا تو اس کے وتر ہو گئے ورنہ وتر دوبارہ پڑھے ۔

لما فی الشامیہ : (2 /657،رشیدیہ )
لوتذکر القنوت فی الرکوع فالصحیح انہ لا یعود ولو عاد وقنت لا یرتفض رکوعہ وعلیہ السھو لان القنوت اذا اعیدیقع واجباًلا فرضاً
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار : ( 2/ 87،ایچ ایم سعید )
وان قعد فی الرابعۃ مثلاً قدر التشہد ثم قام عاد وسلم ولو سلم قائما صح ثم الاصح ان القوم ینتظرونہ فان عاد تبعوہ وان سجد للخامسۃ سلمو لانہ تم فرضہ اذ لم یبق علیہ الاالسلام وضم الیہا سادسۃلو فی العصر وخامسۃ فی المغرب ورابعۃ فی الفجر بہ یفتیٰ لتیصیر الرکعتان لہ نفلاًوالضم ہنا آکداًولا عہدۃ لو قطع ولا بأ س باتمامہ فی وقت کراہۃ علی المعتمد وسجد لسھو فی الصورتین لنقصان فرضہ بتأخیر السلام فی الاولیٰ وترکہ فی الثانیۃ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علیٰ مراقی الفلاح : ( 461 ،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة : (34 / 63 ، علوم اسلامیہ )
وکذا فی الدر المنتقی : (1 /193 ،المنار )
وکذا فی بدائع الصنائع : (1 /401 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : (2 / 423 ،فاروقیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /244 ،دار احیاء )
وکذا فی الہندیة : (1 / 125 ،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ : (1 /290 ،حقانیہ )
وکذا فی البحر الرائق: (2 /75 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةرد المختار : (2 /86 ،ایچ ایم سعید )

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمٰن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:98

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔