سوال

اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور یہ جملہ تین بار کہا تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ عورت نے وہ کام کرلیا ہو یا نہ کیا ہو۔

لما فی الدرالمختار: (3 / 319 ، سعید)
قولہ طلقی نفسک فقالت أنا طالق او أنا أطلق نفسی لم یقع لانہ وعد
وفی االفتاوی الھندیة: (1 / 384، رشیدیہ)
قالت لزوجھا (أنا لا أکون معک) من باتو غیباشم فقال الزوج (لاتکونی فقالت الطلاق بیدک طلقنی) مباش فقالت طلاق بدست تواست مرا طلاق کن فقال الزوج (أطلق أطلق )طلاق میکنم طلاق میکنم وکررثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ(سأطلق)کنتم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک لوقال بالعربیۃ أ طلق لا یکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا
وکذافی الشامیہ: (3 /319 ،سعید )
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /82 ، قدیمی)
وکذافی الجوھرة النیرہ : ( 2/ 189 ،قدیمی )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (1 /83 ، قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: (3 / 545 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق : (2 / 321 ،امدادیہ )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /377 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/12/2022/23/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:138

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔