سوال

انسانی بالوں کی خریدوفروخت جائز ہےیا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

انسانی بالوں کی خریدوفروخت شرعا جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/115،رشیدیہ)
ولایجوزبیع شعورالانسان ولا یجوز الانتفاع بھا وھو الصحیح
وفی تبیین الحقائق: (4/51،امدادیہ)
وشعرالانسان)یعنی لا یجوز بیع شعرالانسان والانتفاع بہ لان الآدمی مکرم
وکذافی الشامیہ: (5/ 58 ،ایچ،ایم،سعید )
وکذا فی التاتارخانیہ: (9 /346 ،فاروقیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /323 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرائق: ( 6/ 133 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة: ( 3/ 82، حسن)
وکذا فی فتح القدیر: (6 /351 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 5/ 58، سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/334،دار احیاء)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:161

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔