سوال

ایک شخص صاحب ِنصاب ہے، تو کیا اس کی اولاد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر صاحب ِنصاب کی اولاد نا بالغ ہے،تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز  نہیں۔اگر اولاد بالغ اورمستحق ہے تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

لما فی  المحیط البرھانی: ( 3/  212،دار احیاء تراث العربی)
 ولا یعطی منھا غنیاً،ولا ولد غنیٍ اذا کان صغیراً،وان کان کبیراً فقیراًجاز لہ الدفع الیہ
وفی بدائع الصنائع: ( 2/158  ، رشیدیة)
وأما ولدالغنی فان کان صغیراًلم یجز الدفع الیہ ،وان کان فقیراً لا مال لہ ،لأن الولد الصغیر یعد غنیاً بغناأبیہ وان کان کبیراًفقیراًیجوز،لأنہ لا یعد غنیاً بمال أبیہ، فکان کالأجنبی
وکذافی  الھدایة: (1 /  329،بشری )
وکذا فی  البنایة: (3 /  553، رشیدیہ)
وکذافی  فتاوی الھندیة: ( 1/  189، رشیدیہ )
وکذا فی  فتوی قاضیخان: ( 1/266  ، رشیدیہ )
وکذافی  الفقہ الاسلامی: ( 3/ 1971 ، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر : ( 2/277  ، رشیدیہ )
وکذافی  الفتوی التاتارخانیة: ( 3/209  ، فاروقیہ)
وکذا فی  الفقہ الحنفی: (1 /  372، مکتبة الطارق)

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2020/01/13/16/4/1444

جلد نمبر : 28 فتوی نمبر: 41

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔