سوال

حاملہ جانور کی قربانی کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر حاملہ جانور کی ولادت کا وقت قریب ہو،تو اسکی قربانی مکروہ ہے،ورنہ مکروہ نہیں۔

لما فی  الھندیة: ( 5/  287، رشیدیہ)
 شاۃاو بقرۃاشرفت علی الولادۃقالوا یکرہ ذبحھا،لان فیہ تضییع الولد وھذا قول ابی حنیفۃ،لان عندہ الجنین لا یتذکی بذکاۃ الام
وفی رد المحتار: ( 6/304  ،سعید )
 ان تقاربت الولادۃ لا یتذکی بذکاۃ الام
وکذافی  البحر الرائق: ( 8/ 312 ،رشیدیہ )
وکذا فی  خلاصة الفتاوی: (4 / 307 ، رشیدیہ )
وکذافی  حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار: (4 / 155 ، رشیدیہ )
وکذا فی  فتاوی قاضیخان: (3 / 367 ، رشیدیہ)
وکذافی  المحیط البرھانی: ( 8/ 455 ،دار احیاءتراث العربی )
وکذا فی حاشیة تبیین الحقائق : ( 5/  293،امدادیہ )
وکذافی  فتاوی النوازل: (331  ،حقانیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/16/20/4/1444

  جلد نمبر: 28 فتوی نمبر :42

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔