سوال

کیا بیوہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بیوہ اپنے سرپرست (ولی  )کی اجازت کے بغیر اپنے ہم پلہ اور برابر(کفو) شخص سے نکاح کر سکتی ہے،اگر وہ شخص بیوہ کا ہم پلہ اور برابر( کفو) نہیں تو یہ نکاح نہیں ہو گا۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار : (3 / 57 ،سعید )
ویفتی)فی غیر الکف(بعدم جوازہ اصلاً) وہو المختار للفتوی( بفساد الزمان) فلا تحل مطلقۃثلاثاًنکحت غیر کفء بلارضاولی بعد معرفتہ اباہ فلیحفظ
 وفی المحیط البرھانی(4 /61  ،دار احیاءتراث العربی )
وروی الحسن عن أبی حنیفۃ: أن الزوج اذالم یکن کفؤاً،لا ینفذ النکاح،وکان أبو یوسف أولاًیقول :یتوقف النکاح الی أن یجیزہ الولی أو الحاکم علی کل حالٍ وھو قول محمدٍ،وصح رجوع محمدالی قول أبی حنیفۃوأبی یوسف آخر
وکذافی فتاوی التاتارخانیة : (4 /100  ،فاروقیہ )
وکذا فی  الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 /6742  ،رشیدیہ )
وکذافی القرآن الکریم : (البقرة /  234 )
وکذا فی جامع الترمذی : (1 / 338 ،رحمانیہ )
وکذافی کتاب الفقہ : (3 / 37 ،حقانیہ )
واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/12/29/5/6/1444

جلد نمبر :28 فتوی نمبر : 149

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔