سوال

ارمیاء نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اَِرمیاء“ نام رکھنا جائز ہے، یہ ایک نبی علیہ السلام کا نام ہے،اس کو ”الف “کے زبر اور زیر کے ساتھ دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔

لما فی لسان العرب:(5 /329،بیروت)
أرمیاء: اسم نبی؛ قال ابن درید :أحسبہ معرباً
وفی القاموس المحیط:(4 /487،بیروت)
 إرمیاء بالکسر نبی
وکذافی الفتاوی البزازیة علی حامش الھندیة:(6 /370،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(11/331،علوم اسلامیة)
 وکذافی الصحیح  لمسلم:(2/214،رحمانیة)
وکذا فی جامع الترمذی:(2/572،رحمانیة)
 وکذافی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیة)
وکذا فی تفسیرابن کثیر:(1/322،بیروت)
وکذافی التفسیرالقرطبی:(3/288،بیروت)
وکذا فی التفسیر المنیر:(2/37،امیر حمزہ)

واللہ اعلم بالصواب

محمداعظم عفا اللہ عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

19/5/1445/4/12/2023

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :43

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔