الجواب حامداًومصلیاً
صورت مسئولہ میں دو طلاقیں ہو گئی ہیں اور تیسری طلاق کے بارے میں شوہر سے قسم لی جائے گی۔ اب اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے کہ میں نے تیسری طلاق نہیں دی تو شوہر کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا(خدا نخواستہ اگر وہ جھوٹی قسم اٹھائے گا تو اس حرام عمل کا وبال دنیا آخرت میں خود برداشت کرے گا)، لیکن عورت نے جب اپنے کانوں سے تین طلاقیں سن لی ہیں تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ شوہر کو اپنے پاس آنے دے بلکہ کچھ مال دیکر طلاق لےلے، نہیں تو کسی اور طریقہ سے مثلاً پنچایت یا جبری عدالتی خلع کے ذریعے طلاق لیکر عدت گزارے اورجہاں چاہے اپنا نیا عقد کرلے۔
لما فی الشامیة : (3 /251،سعید)
والمرأۃکالقاضی اذا سمعتہ أواخبرھاعدل لا یحل لھا تمکینہ والفتوی علی انہ لیس لھا قتلہ ولا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا بمال أو تھرب کما انہ لیس لہ قتلھا اذاحرمت علیہ وکلما ھرب ردتہ بالسحر وفی البزازیۃ عن الاوزجندی انھا ترفع الامر للقاضی، فان حلف ولا بینۃ لھا فلاثم علیہ قلت ای اذا لم تقدر علی الفداء أو الھرب ولا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ
وفی مصنف ابن ابی شیبة: ( 4/102،دارالکتب)
عن مغیرۃ ،عن ابراھیم فی الرجل یطلق امرأتہ ثلاثا ثم یجحدھا قال :احب الی ان ترفعہ الی السطان، فان حلف فاحب الی أن تفتدی منہ اذا حلف
وکذافی فتح القدیر : ( 4/65،رشیدیة) وکذا فی الفقھہ الاسلامی : (9 /6985،رشیدیة)
وکذافی البحر الرائق : (4 / 96،رشدیة) وکذا فی الفتاوی البزازیة علی ھامش الھندیة: ( 4/360 ،رشیدیة)
وکذافی مرقاةالمفاتیح: ( 7/326 ،المکتبة التجاریة) وکذافی الھدایة : ( 2/3 10،البشری)
وکذا فی السنن الکبری : (10 /427 ،دارالکتب)
واللہ اعلم بالصواب
حررہ:محمداعظم عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1445/6/11/2023
جلد نمبر :30 فتوی نمبر :150