سوال

میرے ایک دوست کی بیوی آپس کے جھگڑے کی وجہ سے ناراض ہو کر میکے گئی ہوئی تھی ،تو اس نے دوستوں کی باتوں میں آکر ایک کاغذ پر تین طلاق لکھ کر دستخط کردئیے اور گواہوں کے دستخط کروا لیے جب کہ بیوی اور گھر والوں میں سے کسی کو بھی علم نہیں ہے،پھر اس کاغذ کو جلا دیا اور بیوی کو گھر لے آیا ،اس صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت  میں شوہر نے تین طلاق کے کاغذ پر جیسے ہی دستخط کیے تھے اسی وقت تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ،لہذا اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ہے،دونوں کو فوراًجدا کیا جائے ۔اب بغیر حلالہء شرعی کے اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی۔

لما فی القرآن الکریم: (سورة البقرة /230  )
فَاِن طَلَّقَھَا فَلَاتَحِلُّ لَہٗ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجاً غَیرَہطفَاِن طَلَّقَھَافَلَاجُنَاحَ عَلَیھِمَا اَن یَتَرَاجَعَااِن ظَنَّا اَن یُقِیمَا حُدُودَاللہ 
وفی الصحیح البخاری: (2 /300  ،رحمانیہ )
عن عائشۃ رضی اللہ عنہاان رجلا طلق امراتہ ثلٰثا فتزوجت فطلق فسئل  النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول قال لا حتی یذوق عسیلتھاکما ذاق الاول
وفی فتاوی قاضیخان: (1 /471  ، رشیدیہ)
ثم المرسومۃلایخلو اماان ارسل الطلاق بان کتب اما بعد “فانت طالق “فکما کتب ہذا وقع الطلاق و تلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ
وکذا فی الھندیة: (1 /377  ،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (29 / 24 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار  خانیة: (4 /528  ،فاروقیہ )
وکذا فی فقہ الاسلامی: (9 /6902  ،رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار وفی الردالمحتار: (4 /442  ،بیروت )
وکذا فی البحرالرائق: (3 / 441 ، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی: (2 /111  ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

20/3/1445/7/10/2023

جلد نمبر :30فتوی نمبر :100

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔