الجواب حامداً ومصلیاً
اس صورت میں شوہر نے تین طلاق کے کاغذ پر جیسے ہی دستخط کیے تھے اسی وقت تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ،لہذا اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ہے،دونوں کو فوراًجدا کیا جائے ۔اب بغیر حلالہء شرعی کے اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی۔
لما فی القرآن الکریم: (سورة البقرة /230 )
فَاِن طَلَّقَھَا فَلَاتَحِلُّ لَہٗ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجاً غَیرَہطفَاِن طَلَّقَھَافَلَاجُنَاحَ عَلَیھِمَا اَن یَتَرَاجَعَااِن ظَنَّا اَن یُقِیمَا حُدُودَاللہ
وفی الصحیح البخاری: (2 /300 ،رحمانیہ )
عن عائشۃ رضی اللہ عنہاان رجلا طلق امراتہ ثلٰثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول قال لا حتی یذوق عسیلتھاکما ذاق الاول
وفی فتاوی قاضیخان: (1 /471 ، رشیدیہ)
ثم المرسومۃلایخلو اماان ارسل الطلاق بان کتب اما بعد “فانت طالق “فکما کتب ہذا وقع الطلاق و تلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ
وکذا فی الھندیة: (1 /377 ،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (29 / 24 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (4 /528 ،فاروقیہ )
وکذا فی فقہ الاسلامی: (9 /6902 ،رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار وفی الردالمحتار: (4 /442 ،بیروت )
وکذا فی البحرالرائق: (3 / 441 ، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی: (2 /111 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/1445/7/10/2023
جلد نمبر :30فتوی نمبر :100