الجواب حامداً ومصلیاً
اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا جائز ہے۔ 2)آیت سے اس نسبت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جو نسب کو تبدیل کرنے کی غرض سے باپ کے علاوہ کی طرف کی جائے ، اور شادی شدہ خواتین اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام محض تعارف کے لئے لکھتی ہیں نہ کہ نسب بدلنے کے لئے۔ 3)قرآنِ کریم، عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ میں اس کے نظائر موجود ہیں، مثلاً قرآن کریم میں امراۃ نوح، امراۃ لوط اور امرۃ العزیز یعنی نو ح کی بیوی، لوط کی بیوی، عزیز کی بیوی۔ اور حدیثِ مبارکہ میں امراۃ ابن مسعود، امراۃ ابی طلحۃ اور امراۃ عبدالرحمن کا ذکر ہے۔
لما فی القرآن الکریم:(سورة التحریم، آیة 10)
ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امراۃ نوح و امراۃ لوط
وفیہ ایضاً:(سورة یوسف،آیة 30)
و قال نسوۃ فی المدینۃ امراۃ العزیز تراود فتاھا عن نفسہ
وفی الصحیح للبخاری:(1/280،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی اضحیٰ او فطر الی المصلیٰ ثم انصرف فوعظ الناس و امرھم… جائت امراۃ ابن مسعود تستاذن علیہ
وفی الصحیح للمسلم:(1/83،رحمانیہ)
عن عراک بن مالک انہ سمع اباھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال لاترغبوا عن آبائکم فمن رغب عن ابیہ فھو کفر
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/105،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(6/296،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر : 22 فتوی نمبر:20