سوال

اقامت کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟یعنی کتنے کتنے کلمات ایک سانس میں کہے جائیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو دو کلموں کو ایک سانس میں کہاجائے یعنی ایک سانس میں چار مرتبہ ”اللہ اکبر اللہ اکبر“پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان لاالہ الااللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان محمدا رسول اللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ”حیّ علی الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” حیّ علی الفلاح“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” قد قامت الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں” اللہ اکبر اللہ اکبر“ اور” لاالہ الا اللہ“۔
اقامت اذان کی بنسبت جلدی جلدی کہنی چاہیے اور اقامت میں بھی اذان کی طرح ”حیّ علی الصلاۃ، حیّ علی الفلاح“کہتے وقت دائیں بائیں جانب چہرہ گھمایاجائے۔

لما فی الھندیة :(1/56،رشیدیة)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی الاقامۃ وھذا بیان الاستحباب… والترسل أن یقول اللہ اکبر اللہ اکبر ویقف ثم یقول مرۃ أخری مثلہ وکذلک یقف بین کل کلمتین الی آخر الاذان والحدر الوصل والسرعۃ
وفی المحیط البرھامی:(2/93،دار احیاءتراث)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی قال علیہ الصلاۃ والسلام لبلال :اذا اذنت فترسل واذاأقمت فاحدر
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(97،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/706،رشیدیة)
وکذافی الجوھرة النیرة:(124،قدیمی)
وکذافی اللباب :(1/75،قدیمی)
وکذافی التاتار خانیة:(2/143،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/369، رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/447، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/1202/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:154

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔