سوال

لوگوں سے سنا ہے کہ فجر کی نماز سے لےکر اشراق کے وقت تک جہا ں نماز پڑھی ہے ادھر بیٹھے رہو تو اشراق کی صحیح فضیلت حاصل ہو گی کیا اس کی کو ئی حقیقت ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز اشراق کی پو ری فضیلت اور مکمل ثواب کا وہ شخص مستحق ہے جو نماز فجر مسجد میں باجماعت ادا کرے یا بوجہ معذو ری گھر میں پڑھے اور اسی جگہ بیٹھا رہے اورذکر الٰہی میں مشغول رہے پھر وقت مکروہ نکل جانے کے بعد دو رکعت یاچار رکعت اشراق اداکرے ۔البتہ اگر کسی شرعی یا طبعی حاجت کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کر چلاجائے اور پھر حاجت سے فراغت کے بعد نماز اشراق ادا کرلے تو اشراق کے ثواب کو حاصل کر لے گا مگر نسبۃ کم ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(1/191،رحمانیہ)
معاذ بن انس الجھنی عن ابیہ ان رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قعد فی مصلی ہ حین ینصرف من صلوٰۃ الصبح حتی یسبح رکعتی الضحی لا یقول الاخیراغفر لہ خطایاہ وان کان اکثر من زبد البحر
وفی عون المعبود :(4/101،قد یمی)
عن سھل بن معاذ بن انس الجھنی)….(من قعد)ای استمر (فی مصلی ہ )من المسجد أو البیت مشتغلا بالذکر او الفکر او مفیدا للعلم او مستفیدا و طائفا بالبیت( حین ینصرف )ای یسلم( من صلاۃ الصبح حتی یسبح) ای الی ان یصلی (رکعتی الضحی) ای بعد طلوع الشمس وارتفاعھا (لا یقول) ای فیما بینھما( الا خیرا )ای و ھو ما یتر تب علیہ الثواب ، واکتفی بالقول عن الفعل (غفر لہ خطا یاہ) ای الصغا ئر و یحتمل الکبائر قال علی القا ری
وکذافی اعلاء السنن :(7/30،ادارة القرآن )
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(1/116،دار الحدیث)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(3/396،التجار یة)
وکذا فی جامع التر مذی :(1/220،رحما نیة)
وکذا فی الصحیح لمسلم :(1/235،قد یمی)
وکذا فی الکتاب المصنف :(2/133،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی التر غیب والترھیب : (1/267،رشید یة)
وکذا فی مجمع الز وائد :(2/413،دار الکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:160

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔